Posts

سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے

وہ نہ آئے تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم

سنےکون قصہ دردِ دل

عزیز لوگو کہاں گئے ہو..

ہر اک بات پہ رونا آیا

Sad Poetry

میرے ہم نفس میرے ہم نوا

اردو پوئٹری

اردو اشعار

محسن نقوی

وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

ہونٹوں پہ ساحلوں کی طرح تشنگی رہی

ان کو میرا ملال ہے شاید

اے خدا جب تو روبرو کرنا اپنے بندے کو سرخرو کرنا

کوئی نسخہ نہ دوا دیتے ہیں تم سے پرہیز بتا دیتے ہیں

عید کیسے منائی جائے گی

عید کے حوالے سے۔۔ دو گھڑی تیری دید ہو جائے

ہجر ،بد ذات سے نہیں بنتی

مکین بن کے ملے یا مکان بن کے ملے

صرف اک تیرے لئے آنکھ یہ تر تھوڑی ہے

خیالِ یار سے گفت و شنید رہتی ہے

بعد مدت کے کتابوں سے نکل آئے ہو

کوئی مشکل پڑے تعویذ بنا سکتے ہو

کوئی منزل نہ کچھ سبیل ہوئی

عشقِ رسول ﷺ کیا ہے , اللہ سے لو لگانا

دسمبر کے حوالے سے ایک نظم

آپ کے غم کی دسترس میں رہے

ماں ۔۔ پیاری نظم

آؤ اب رسم محبت یوں نبھائی جائے

چلو پھر لوٹ جائیں ہم۔ نظم

چار دن آنکھ میں نمی ہو گی

نبض چلتی ہے سانس جاری ہے

جو بجھ رہے ہیں دیے ان کو یہ خبر کرنا

جینے کے ان کے ساتھ بہانے چلے گئے

وہ وہاں محفلِ اغیار کئے بیٹھے ہیں

زندگی تب تلک ہدف ہو گی

میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں-

تجھے پالا, تجھے پوسا, تجھے پیدا کیا میں نے

بات لوگوں کی بنی

ان کو میرا ملال ہے شاید

بے وفا کہتے ہیں جو مجھ کو زمانے والے

جب لوگ ہوں آسودہ بھلا دیتے ہیں دنیا

قصہ ہمارا ہم سے زیادہ مہیب ہے