کاغذ بھی دل فگار ہے کس کا نصیب ہے
قصہ ہمارا ہم سے زیادہ مہیب ہے
اندازہ کیجے آپ ہی اس دل فریب کا
سارے کا سارا شہر ہی میرا رقیب ہے
رہتا ہوں دور دور میں خود سے بھی آج کل
یہ کون آج کل مرے اتنا قریب ہے
سائے کا بوجھ بھی نہ اٹھا پائے یہ مرے
گھر کا چراغ بھی مرا کتنا غریب ہے
بک جائیں مال و زر پہ یہاں جسم، جان دل
ہم کو کہا گیا تھا محبت نصیب ہے
کس منہ سے اب مریضِ محبت ہو جان بر
خود ہے مرض تو خود ہی محبت طبیب ہے
جچتی وفا کی بات زمانے کو بھی نہیں
لیکن تمہارے منہ سے تو ازحد عجیب ہے
ابرک کے بارے میرا تو ذاتی خیال ہے
بندہ برا نہ ہو بھی تو شاعر ادیب ہے
۔۔۔۔۔۔ اتباف ابرک
Comments
Post a Comment