پاس اک بسری محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
یعنی اب کام فراغت کے سوا کچھ بھی نہیں
جب سے بخشی ہے حکومت تجھے، یہ دل میرا
ایک ناکام ریاست کے سوا کچھ بھی نہیں
مشورہ مانگے محبت کا جو مجھ سے سن لے
یہ اذیت ہے اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
وصل کا وعدہ تھا لیکن وہاں بھی یہ جانا
کہ قیامت تو قیامت کے سوا کچھ بھی نہیں
بے وفا کہتے ہیں جو مجھ کو زمانے والے
چپ مری تیری وکالت کے سوا کچھ بھی نہیں
کتنا مشکل ہے ترے کوچے سے ہجرت کرنا
جبکہ سامان ملامت کے سوا کچھ بھی نہیں
ہاں کبھی وقت تھا سب دوست کہا کرتے تھے
اب مرا نام "ضرورت" کے سوا کچھ بھی نہیں
حرف در حرف پڑھا ہے تو تجھے جانا ہوں
میری ہستی تُو ضخامت کے سوا کچھ بھی نہیں
تھک کے گرتے ہیں تو احساس تبھی ہوتا ہے
زندگی ایک مسافت کے سوا کچھ بھی نہیں
یہ مری رات مری نیند مرے خواب ابرک
دشتِ ویراں کی سیاحت کے سوا کچھ بھی نہیں
Comments
Post a Comment