وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا

وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا 

بس مجھ سے یونہی بچھڑ گیا تھا 


لفظوں کی حدوں سے ماورا تھا 

اب کس سے کہوں وہ شخص کیا تھا


یوں دل میں تھی یاد اُس کی جیسے 

مسجد میں چراغ جل رہا تھا 


کل شب وہ ملا تھا دوستوں کو

کہتے ہیں اداس لگ رہا تھا 


محسن یہ غزل ہی کہہ رہی ہے 

شاید ترا دل دُکھا ہوا تھا

Comments