ان کو میرا ملال ہے شاید
یہ بھی میرا خیال ہے شاید
زرد جو ڈال ڈال ہے میری
یہ تری دیکھ بھال ہے شاید
در بھی دیوار سا جو لگتا ہے
یہ ترا احتمال ہے شاید
خامشی خامشی نہیں میری
یہ مرا عرضِ حال ہے شاید
موت گر مان لیں شکاری ہے
زندگی اس کا جال ہے شاید
ہو مبارک مگر ہمیں ڈر ہے
یہ بھی پچھلا ہی سال ہے شاید
آج کل پھر سکوں ندارد ہے
رابطہ پھر بحال ہے شاید
ہم نے ہر موڑ مڑ کے یہ سمجھا
اس سے آگے وصال ہے شاید
جس سے کیجے وہ بے وفا نکلے
یہ بھی میرا کمال ہے شاید
آج کل وقت جس میں ہے ابرک
تیرے لفظوں کا جال ہے شاید
Comments
Post a Comment