Posts

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

ہونٹوں پہ ساحلوں کی طرح تشنگی رہی

ان کو میرا ملال ہے شاید

اے خدا جب تو روبرو کرنا اپنے بندے کو سرخرو کرنا

کوئی نسخہ نہ دوا دیتے ہیں تم سے پرہیز بتا دیتے ہیں

عید کیسے منائی جائے گی

عید کے حوالے سے۔۔ دو گھڑی تیری دید ہو جائے

ہجر ،بد ذات سے نہیں بنتی

مکین بن کے ملے یا مکان بن کے ملے

صرف اک تیرے لئے آنکھ یہ تر تھوڑی ہے

خیالِ یار سے گفت و شنید رہتی ہے

بعد مدت کے کتابوں سے نکل آئے ہو