عہد نبوی کا ایک فکرانگیز واقعہ

عہد نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا واقعہ



خواتین کی ایمانی غیرت ، دینی حمیت اورمذہبی وابستگی کاعہدنبوی میں پیش آمدہ اس ایک واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتاہے۔حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا جب بیوہ ہوئیں تو مدینہ منورہ کے ایک رئیس زادےابو طلحہ نے شادی کا پیغام بھیجا ،اس وقت ام سلیم تو مسلمان ہوچکی تھیں؛مگر ابو طلحہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے،لہذا ام سلیم نے یہ دو ٹوک جواب دے کر ان کے پیغام کو رد کردیا کہ اے ابو طلحہ! اللہ کی قسم آپ کی وہ حیثیت ہے کہ آپ کا پیغام رد نہ کیا جائے؛لیکن مشکل یہ ہے کہ آپ کافر ہیں، میں مسلمان ہوں اور کسی مسلمان عورت کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی کافر کے ساتھ شادی کرے( مسند احمد ، سنن نسائی ) یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ ابھی مسلم و کافر کی شادی کے بطلان کا حکم بھی نازل نہیں ہوا تھا پھر بھی ایک مسلمان عورت کی غیرت اور عزت نفس دیکھئے کہ اپنے کو کسی کافر کی ماتحتی اور نگرانی میں دینا گوارا نہیں کیا ۔

الغرض: مسلم لڑکیوں کی اس بے راہ روی کے حقیقی مجرم ان کےوالدین ہیں؛ کیونکہ باپ ماں نے نہ تو اپنے گھر کا ماحول دینی رکھا ، نہ ہی اولاد کو دینی اقدار سکھلائے اور نہ مومن و کافر کا حقیقی فرق بتلایا ، ان کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز رہی کہ میری بیٹی اعلی تعلیم حاصل کرلے ، اسے اچھی نوکری مل جائے؛ لیکن اس طرف قطعا توجہ نہ دی کہ ان حالات میں میری بیٹی مسلمان بھی رہ جائے گی کہ نہیں ؟ انہیں یہ فکر تو صبح و شام ستاتی رہی کہ میری بیٹی ڈاکٹر بن جائے ، انجنیئر بن جائے لیکن مومن و مسلمان بھی بنے اس کے بارے میں شاید کبھی سوچا بھی نہ ہو ، ان کی یہ کوشش ضرور رہی کہ میری بیٹی اچھے نمبرات حاصل کرے اسے اچھا ٹیوٹر ملے؛لیکن اس بارے میں کبھی خیال تک نہ گزرا کہ میری بیٹی کا استاذوٹیچر دین و اخلاق کا مالک ہے یا نہیں ؟اس کے کالج یا اسکول کا نظام مخلوط ہے یا علیحدہ ، اگر بیٹی امتحان میں کم نمبر سے پاس ہوتی ہوگی تو سخت برہمی کا اظہار کیا ہوگا مارنے کی دھمکی دی ہوگی؛لیکن لڑکی نے نماز میں کوتاہی کی ہوگی تو اسکے عوض ماتھوں پر بل نہ آئے ہوں گے ، ان کی توجہ اس پر تو مرکوز رہی ہوگی کہ میری بچی انگریزی زبان بولنے اور سمجھنے لگے لیکن یہ کبھی نہ سوچا ہوگا کہ اسے قرآن مجید کا صرف ترجمہ ہی پڑھا دیا جائے ، غرض یہ کہ اللہ تعالی کی طرف سے سونپی گئی حقیقی ذمہ داریوں کو وہ بھولے رہے ، انہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے اوپر اولاد کی کیا ذمہ داری رکھی ہے ؛جب کہ اللہ تعالی کاارشادہے: ” ایمان والو ! تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ” ۔(التَّحريم:6)

Comments